نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا

“Neither the dervish's patched cloak do I crave, nor the royal crown of a king; grant me just enough wits, O Beloved, that I may remain mad in love with you.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

مجھے نہ تو درویشوں کا لبادہ چاہیے اور نہ ہی بادشاہوں کا شاہی تاج، بس مجھے اتنا ہوش عطا کر کہ میں تیری محبت میں دیوانہ بنا رہوں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دنیاوی اقتدار کے تاج اور درویشوں کے ظاہری خرقے، دونوں ہی راستوں سے بے نیازی برتتا ہے۔ وہ اپنے محبوب سے ایک انوکھی دعا مانگتا ہے کہ مجھے اتنا ہوش تو بخش کہ میں تیرے عشق کی وارفتگی اور دیوانگی کو باقاعدہ محسوس کر سکوں۔ اس خوبصورت تضاد کا حسن یہی ہے کہ عشق میں بے خود ہونے کا لطف بھی تبھی آتا ہے جب دل کو یہ خبر رہے کہ وہ کس کی محبت میں لٹ رہا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.