“Let something happen so that I might reach my cherished goal—be it the path of austere piety, or the libertine's wayward stroll.”
کچھ ایسی صورت بن جائے کہ میں اپنے مقصود تک پہنچ جاؤں، خواہ وہ راستہ پرہیزگاری کا ہو یا رندوں کا۔
اس شعر میں شاعر اپنی منزلِ مقصود یعنی قربِ الٰہی یا سچی حقیقت کو پانے کی بے تاب تمنا کا اظہار کر رہا ہے۔ اُسے راستے کی ظاہری نوعیت سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ زہد و تقویٰ (پارسائی) کی پگڈنڈی ہو یا بے خود و مست عاشقوں (رندانہ) کی راہ۔ صوفیانہ فکر کی یہ خوبصورتی ہے کہ وہ رسمی ضابطوں سے آگے نکل کر محض طلب اور وصال کو سب سے بلند مقام دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
