“All this coming and going rests upon the breath's ebb and flow; this transit lasts only till then—thereafter, no more to come, no more to go.”
یہ ساری چہل پہل اور زندگی کی آمد و رفت صرف سانس کے آنے جانے پر منحصر ہے؛ یہ آنا جانا بس سانس کے برقرار رہنے تک ہے، اس کے بعد نہ کہیں جانا ہے اور نہ واپس آنا۔
شاعر نے زندگی کی بے ثباتی کو سانس کے آنے جانے کے استعارے سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ دنیا کے تمام ہنگامے، رونقیں اور بھاگ دوڑ دراصل صرف سانسوں کی اس آمد و رفت کے مرہونِ منت ہیں۔ جیسے ہی سانس کا یہ سلسلہ منقطع ہوتا ہے، وجود کا سارا شور تھم جاتا ہے اور پھر نہ کہیں جانے کا امکان باقی رہتا ہے اور نہ لوٹ کر آنے کا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
