“Cherish each moment spent in ecstasy within this garden; keep pouring, O vow-breaking cupbearer, cup after brimming cup.”
باغ میں جو لمحہ بھی مستی اور سرور میں گزر جائے اسے غنیمت سمجھ، اور اے وعدہ توڑنے والے ساقی، تو بس جام بھر بھر کر پلاتا جا۔
شاعر زندگی کو ایک عارضی گلشن سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اس چمن میں سرور اور وارفتگی کی جو گھڑی بھی نصیب ہو، اسے کسی بڑی غنیمت کی طرح سمیٹ لینا چاہیے۔ ساقی کو یہاں 'پیماں شکن' یعنی توبہ اور پرہیز کے وعدے توڑنے والا کہہ کر بلایا گیا ہے، جو ہمیں بندشوں سے آزاد کر کے مستی کی طرف بلاتا ہے۔ 'پیماں' (عہد) اور 'پیمانہ' (جام) کی خوبصورت مناسبت سے تراشا گیا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی سچی مسرت جب بھی ملے، اسے بغیر کسی جھجھک کے جی بھر کر قبول کر لینا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
