“Nowhere did I behold that splendor which in the heart's chamber shone, / Though long I struck my brow in mosques, and searched each idol-shrine alone.”
جو جلوہ میں نے اپنے دل کے اندر دیکھا وہ مجھے کہیں اور نظر نہ آیا، خواہ میں نے مسجد میں کتنا ہی سر پٹکا اور بت خانے میں کتنا ہی ڈھونڈا۔
اس شعر میں شاعر نے تصوف کی اس خوبصورت سچائی کو کھولا ہے کہ خدا کسی عمارت یا رسمی عبادت گاہ کے بجائے انسان کے اپنے دل میں بستا ہے۔ انہوں نے مسجدوں میں سجدے کر کے ماتھا بھی رگڑا اور بت خانوں کے بھی چکر لگائے، مگر وہ تسکین اور جلوہ کہیں نظر نہ آیا۔ آخرکار یہ راز کھلا کہ جس محبوبِ حقیقی اور نور کی تلاش میں وہ دربدر بھٹک رہے تھے، اس کی سچی تجلی تو خود ان کے اپنے دل کے گوشے میں چمک رہی تھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
