غزل
گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
یہ غزل شوخی اور ظرافت سے بھرپور عاشقانہ جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں محبوب کی جھڑکیاں اور گالیاں بھی عاشقوں کے لیے کسی میٹھے انعام سے کم نہیں۔ اس میں محبوب کے بے مثال حسن کو یوسف کے حسن پر فوقیت دیتے ہوئے بڑے دلکش اور روایتی انداز میں سراہا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
गालियाँ तनख़्वाह ठहरी है अगर बट जाएगी
आशिक़ों के घर मिठाई लब शकर बट जाएगी
گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
عاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی
اگر گالیاں ہی ہماری تنخواہ مقرر ہوئی ہیں تو وہ بھی تقسیم ہو جائیں گی؛ عاشقوں کے لیے محبوب کے شکر جیسے لبوں سے ملنے والی گالیاں بھی گھر میں مٹھائی بٹنے کے برابر ہیں۔
2
रू-ब-रू गर होगा यूसुफ़ और तू आ जाएगा
उस की जानिब से ज़ुलेख़ा की नज़र बट जाएगी
روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا
اس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی
اگر روبرو یوسف موجود ہوں اور تم وہاں آ جاؤ، تو زلیخا کی نظر بھی ان کی طرف سے ہٹ کر تم پر بٹ جائے گی۔
3
रहज़नों में नाज़-ओ-ग़म्ज़ा की ये जिंस-ए-दीन-ओ-दिल
जूँ मता-ए-बुर्दा आख़िर हम-दिगर बट जाएगी
رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دل
جوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی
ناز اور غمزہ جیسے لٹیروں کے درمیان دل اور دین کا یہ سرمایہ بالآخر لوٹے ہوئے مال کی طرح آپس میں بٹ جائے گا۔
4
होगा क्या गर बोल उट्ठे ग़ैर बातों में मिरी
फिर तबीअत मेरी ऐ बेदाद गर बट जाएगी
ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مری
پھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی
اگر میری باتوں کے بیچ میں رقیب بول پڑے گا تو کیا ہوگا؟ اے ستم گر محبوب، اس طرح تو میرا دھیان اور دل بٹ کر رہ جائے گا۔
5
दौलत-ए-दुनिया नहीं जाने की हरगिज़ तेरे साथ
बाद तेरे सब यहीं ऐ बे-ख़बर बट जाएगी
دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ
بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی
دنیا کی دولت ہرگز تمہارے ساتھ نہیں جائے گی، اے بے خبر انسان، تمہارے بعد یہ سب یہیں بٹ جائے گی۔
6
कर ले ऐ दिल जान को भी रंज-ओ-ग़म में तू शरीक
ये जो मेहनत तुझ पे है कुछ कुछ मगर बट जाएगी
کر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریک
یہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی
اے دل، تُو جان کو بھی اپنے رنج و غم میں شریک کر لے، تاکہ تیرے اوپر جو یہ مشقت اور بوجھ ہے وہ کچھ نہ کچھ بٹ جائے۔
7
मूँग छाती पे जो दलते हैं किसी की देखना
जूतियों में दाल उन की ऐ 'ज़फ़र' बट जाएगी
مونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھنا
جوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی
اے ظفر! جو لوگ دوسروں کو ستاتے ہیں اور ان کے سینے پر مونگ دلتے ہیں، دیکھ لینا ایک دن ان کے اپنے ہی درمیان پھوٹ پڑ جائے گی اور وہ باہم دست و گریباں ہو جائیں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
