روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا اس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی

“Should Yusuf stand before her and you arrive in view, even Zulaikha's captivated gaze would divide and turn to you.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگر روبرو یوسف موجود ہوں اور تم وہاں آ جاؤ، تو زلیخا کی نظر بھی ان کی طرف سے ہٹ کر تم پر بٹ جائے گی۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے تلمیح کا نہایت دلکش استعمال کرتے ہوئے اپنے محبوب کے حسن کو سراہا ہے۔ حضرت یوسف حسن کا کمال مانے جاتے ہیں اور زلیخا ان کے عشق کی ایسی علامت ہیں جن کی نگاہ یوسف کے سوا کسی دوسرے پر نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ مگر شاعر کہتا ہے کہ اگر یوسف روبرو ہوں اور تم اچانک سامنے آ جاؤ، تو زلیخا کی دیوانہ وار جمی ہوئی نظر بھی بٹ کر تمہاری طرف مڑ جائے گی—یعنی تمہارا جلوہ اس قدر مسحور کن ہے کہ وہ کامل ترین حسن پر بھی غالب آ سکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.