“Among the bandits of coquetry and pride, like plundered spoils, this wealth of faith and heart will in the end divide.”
ناز اور غمزہ جیسے لٹیروں کے درمیان دل اور دین کا یہ سرمایہ بالآخر لوٹے ہوئے مال کی طرح آپس میں بٹ جائے گا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے ناز و نخرے اور اداؤں کو رہزنوں (ڈاکوؤں) سے تشبیہ دی ہے۔ عاشق کا دل اور اس کا دین و ایمان وہ قیمتی سرمایہ ہے جو محبت کی راہ میں لوٹ لیا گیا ہے۔ شاعر بڑی خوبصورتی سے اپنی بے بسی بیان کرتا ہے کہ جس طرح چور اچکے لوٹا ہوا مال آپس میں بانٹ لیتے ہیں، بالکل اسی طرح محبوب کی یہ شوخ ادائیں اس کے دل اور ایمان کو باہم تقسیم کر لیں گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
