“If abuses are fixed as our wages, let them be handed out; the sweet confection of sugar-lips shall reach each lover’s house.”
اگر گالیاں ہی ہماری تنخواہ مقرر ہوئی ہیں تو وہ بھی تقسیم ہو جائیں گی؛ عاشقوں کے لیے محبوب کے شکر جیسے لبوں سے ملنے والی گالیاں بھی گھر میں مٹھائی بٹنے کے برابر ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے عشق کی شوخی اور والہانہ پن کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر محبوب کی جھڑکیاں اور گالیاں ہی عاشقوں کی تنخواہ قرار پائی ہیں تو کوئی بات نہیں، خوشی سے بانٹ دی جائیں، کیونکہ وہ شکر جیسے میٹھے لبوں سے ادا ہوئی ہیں اور مٹھائی سے کم نہیں۔ محبت کا یہ وہ انوکھا رنگ ہے جہاں محبوب کا غصہ اور طعنے بھی عاشق کے حق میں تبرک اور مٹھاس بن جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
