“What will happen if the rival interrupts while I speak? / Then my attention, O cruel one, will only be divided.”
اگر میری باتوں کے بیچ میں رقیب بول پڑے گا تو کیا ہوگا؟ اے ستم گر محبوب، اس طرح تو میرا دھیان اور دل بٹ کر رہ جائے گا۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے بڑے پیار اور شکوے کے انداز میں محوِ گفتگو ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہمارے راز و نیاز کے دوران رقیب بول پڑا تو میری ساری توجہ اور دل دو لخت ہو کر بٹ جائیں گے، اور ملاقات کا سارا حسن ماند پڑ جائے گا۔ دراصل عشق میں محبوب کی یکسوئی اتنی قیمتی ہوتی ہے کہ سچا عاشق اس پاکیزہ رشتے میں کسی تیسرے کی ادنیٰ سی مداخلت بھی گوارا نہیں کر پاتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
