“Those who torment another, grinding lentils on their chest, just wait and see: O Zafar, among their very shoes, their own broth divided shall be.”
اے ظفر! جو لوگ دوسروں کو ستاتے ہیں اور ان کے سینے پر مونگ دلتے ہیں، دیکھ لینا ایک دن ان کے اپنے ہی درمیان پھوٹ پڑ جائے گی اور وہ باہم دست و گریباں ہو جائیں گے۔
اس شعر میں ظفرؔ نے دو روایتی محاوروں کا نہایت خوبصورت استعمال کر کے مکافاتِ عمل کی بات کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ جو لوگ آج غرور میں آ کر دوسروں کو ستاتے ہیں اور ان کے سینے پر مونگ دلتے ہیں، وہ جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ وقت بدلے گا تو ان کا سارا وقار خاک میں مل جائے گا اور ان کی اپنی ہی محفلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ ظلم اور تکبر ہمیشہ اپنے ہی بوجھ تلے دب کر رسوا ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
