“O heart, make life a partner in your grief and sorrow too / This heavy burden weighing on you will at least be partly shared.”
اے دل، تُو جان کو بھی اپنے رنج و غم میں شریک کر لے، تاکہ تیرے اوپر جو یہ مشقت اور بوجھ ہے وہ کچھ نہ کچھ بٹ جائے۔
شاعر اپنے دل سے بڑی اپنائیت اور درد کے ساتھ مخاطب ہے کہ وہ تنہا تمام دکھ درد کا بوجھ نہ اٹھائے۔ وہ کہتا ہے کہ اے دل، اپنی جان یعنی پورے وجود کو بھی اس غم میں شریک کر لے تاکہ تیری تنہائی ختم ہو۔ جب یہ بھاری مشقت دل اور جان مل کر بانٹ لیں گے، تو دل کی تکلیف کچھ نہ کچھ ہلکی ضرور ہو جائے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
