غزل

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: क्या चीज़ है

یہ غزل انسانی وجود کے پُراسرار معجزے اور محبوب کے حسنِ بے مثال کی حیرت انگیز کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ اس میں خاک کے پتلے میں پوشیدہ نطق و حیات کے تعجب کے ساتھ ساتھ محبوب کی زلف اور نگاہِ فتنہ گر کے سحر انگیز غلبے کی عکاسی کی گئی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
देखो इंसाँ ख़ाक का पुतला बना क्या चीज़ है बोलता है इस में क्या वो बोलता क्या चीज़ है
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے
دیکھو کہ مٹی کا بنا ہوا یہ انسان کیا عجیب شے بن گیا ہے؛ اس کے اندر آخر وہ کیا ہے جو بولتا ہے اور وہ بولنے والا کون ہے؟
2
रू-ब-रू उस ज़ुल्फ़ के दाम-ए-बला क्या चीज़ है उस निगह के सामने तीर-ए-क़ज़ा क्या चीज़ है
روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے
محبوب کی زلف کے جال کے سامنے مصیبت کا پھندا کچھ بھی نہیں ہے، اور اس کی نگاہ کے آگے قضا کا تیر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
3
यूँ तो हैं सारे बुताँ ग़ारत-गर-ए-ईमाँ-ओ-दीं एक वो काफ़िर सनम नाम-ए-ख़ुदा क्या चीज़ है
یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے
یوں تو سارے محبوب ایمان اور دین کو برباد کرنے والے ہوتے ہیں، لیکن خدا کی قسم، وہ ایک کافر محبوب کیا ہی کمال کی چیز ہے۔
4
जिस ने दिल मेरा दिया दाम-ए-मोहब्बत में फँसा वो नहीं मालूम मुज को नासेहा क्या चीज़ है
جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے
اے نصیحت کرنے والے، مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس نے میرے دل کو محبت کے جال میں پھنسا دیا ہے۔
5
होवे इक क़तरा जो ज़हराब-ए-मोहब्बत का नसीब ख़िज़्र फिर तो चश्मा-ए-आब-ए-बक़ा क्या चीज़ है
ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے
اگر کسی کے نصیب میں محبت کے زہر کا ایک قطرہ بھی آ جائے، تو اے خضر، پھر ہمیشہ کی زندگی دینے والے آبِ حیات کے چشمے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔
6
मर्ग ही सेहत है उस की मर्ग ही उस का इलाज इश्क़ का बीमार क्या जाने दवा क्या चीज़ है
مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے
موت ہی اس کی صحت ہے اور موت ہی اس کا علاج ہے، عشق کا بیمار کیا جانے کہ دوا کیا چیز ہوتی ہے۔
7
दिल मिरा बैठा है ले कर फिर मुझी से वो निगार पूछता है हाथ में मेरे बता क्या चीज़ है
دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے
وہ محبوب میرا دل لے کر بیٹھا ہوا ہے اور پھر مجھ ہی سے پوچھتا ہے کہ بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔
8
ख़ाक से पैदा हुए हैं देख रंगा-रंग गुल है तो ये नाचीज़ लेकिन इस में क्या क्या चीज़ है
خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل ہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے
دیکھو کہ مٹی سے کیسے رنگ برنگے پھول اگتے ہیں؛ اگرچہ یہ مٹی بظاہر ایک ناچیز شے ہے، مگر اس کے اندر کیا کیا کمالات اور چیزیں پوشیدہ ہیں۔
9
जिस की तुझ को जुस्तुजू है वो तुझी में है 'ज़फ़र' ढूँडता फिर फिर के तो फिर जा-ब-जा क्या चीज़ है
جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔ ڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے
اے ظفر، جس کی تجھے تلاش ہے وہ تیرے اپنے ہی اندر موجود ہے، پھر تو جگہ جگہ گھوم کر کیا ڈھونڈ رہا ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.