“Death alone is his health, death alone his cure; what does the one sick with love know of what medicine is?”
موت ہی اس کی صحت ہے اور موت ہی اس کا علاج ہے، عشق کا بیمار کیا جانے کہ دوا کیا چیز ہوتی ہے۔
شاعر یہاں عشق کو ایک ایسا لا علاج روگ قرار دیتا ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام دوائیں اور تدبیریں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ عام مریض کے لیے صحت کا مطلب زندگی کی بحالی ہے، لیکن عشق کے مارے کے لیے تڑپ اور ہجر سے نجات صرف فنا ہو جانے میں ہے۔ اس لیے عاشق کے حق میں موت کوئی خوفناک انجام نہیں، بلکہ وہ آخری شفا اور دائمی سکون ہے جس کے بعد کوئی درد باقی نہیں رہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
