ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے

“If but a single drop of love's venom should fall to one's lot, then what worth, O Khizr, is the fountain of eternal life?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگر کسی کے نصیب میں محبت کے زہر کا ایک قطرہ بھی آ جائے، تو اے خضر، پھر ہمیشہ کی زندگی دینے والے آبِ حیات کے چشمے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔

تشریح

شاعر اس خوبصورت شعر میں عشق کی کڑواہٹ اور اس کے درد کو حیاتِ جاوداں سے کہیں برتر قرار دے رہا ہے۔ روایات کے مطابق حضرت خضر نے آبِ حیات پیا اور ہمیشہ کی زندگی پائی، مگر عاشق کہتا ہے کہ اگر محبت کے زہر کا ایک قطرہ بھی مل جائے تو اس چشمۂ بقا کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ سچے عشق کی تڑپ میں وہ کیف اور معنویت ہے جس کے آگے بے عشق لامتناہی زندگی بالکل بے معنی لگتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.