“If but a single drop of love's venom should fall to one's lot, then what worth, O Khizr, is the fountain of eternal life?”
اگر کسی کے نصیب میں محبت کے زہر کا ایک قطرہ بھی آ جائے، تو اے خضر، پھر ہمیشہ کی زندگی دینے والے آبِ حیات کے چشمے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔
شاعر اس خوبصورت شعر میں عشق کی کڑواہٹ اور اس کے درد کو حیاتِ جاوداں سے کہیں برتر قرار دے رہا ہے۔ روایات کے مطابق حضرت خضر نے آبِ حیات پیا اور ہمیشہ کی زندگی پائی، مگر عاشق کہتا ہے کہ اگر محبت کے زہر کا ایک قطرہ بھی مل جائے تو اس چشمۂ بقا کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ سچے عشق کی تڑپ میں وہ کیف اور معنویت ہے جس کے آگے بے عشق لامتناہی زندگی بالکل بے معنی لگتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
