“Behold man, an idol sculpted from clay, what a wondrous thing he has become; what is it that speaks within him, and what marvel is that speaker?”
دیکھو کہ مٹی کا بنا ہوا یہ انسان کیا عجیب شے بن گیا ہے؛ اس کے اندر آخر وہ کیا ہے جو بولتا ہے اور وہ بولنے والا کون ہے؟
یہ شعر انسان کی تخلیق اور اس کے وجود کے پُراسرار معجزے پر حیرت کا اظہار ہے۔ شاعر سوچتا ہے کہ مٹی کا یہ بے جان پتلا بظاہر کتنی معمولی چیز ہے، مگر اس میں گویائی اور شعور نے اسے کیا کمال بنا دیا ہے۔ دراصل وہ اس اندرونی روح اور الٰہی طاقت کی کھوج میں ہے جو اس خاکی بدن کے پردے میں چھپ کر کلام کر رہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
