“The one you seek resides within yourself, O Zafar; why wander then, searching endlessly from place to place?”
اے ظفر، جس کی تجھے تلاش ہے وہ تیرے اپنے ہی اندر موجود ہے، پھر تو جگہ جگہ گھوم کر کیا ڈھونڈ رہا ہے؟
ظفرؔ اس شعر میں تصوف کی ایک ازلی اور خوبصورت سچائی بیان کر رہے ہیں کہ جس خدا یا محبوب کی تلاش میں انسان در بدر بھٹکتا پھرتا ہے، وہ کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اپنے دل کے نہاں خانے میں بسا ہوا ہے۔ جب وہ جلوہ اور نور تمہارے اپنے وجود میں سمایا ہے تو پھر دنیا بھر میں خاک چھاننا محض بے خبری ہے۔ یہ شعر انسان کو باہر کی لاحاصل دوڑ چھوڑ کر اپنے باطن میں جھانکنے اور خود شناسی کا بڑا پیارا سبق دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
