غزل

دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ

دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 7 shers· radif: न तोड़

اس غزل میں عاشق اپنے بے درد محبوب سے پردرد التجا کرتا ہے کہ وہ اس کے دل کو نہ توڑے کیونکہ دل خدا کا گھر ہے۔ اس میں عشق کے والہانہ جنون، قلبی شکستگی کے خوف اور وارفتگی کے احوال کی دلکش ترجمانی کی گئی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
देख दिल को मिरे ओ काफ़िर-ए-बे-पीर न तोड़ घर है अल्लाह का ये इस की तो ता'मीर न तोड़
دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ گھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ
اے بے رحم محبوب! میرے دل کو دیکھ اور اسے مت توڑ، کیونکہ یہ اللہ کا گھر ہے اس لیے اس کی تعمیر کو مت ڈھا۔
2
ग़ुल सदा वादी-ए-वहशत में रखूँगा बरपा ऐ जुनूँ देख मिरे पाँव की ज़ंजीर न तोड़
غل سدا وادئ وحشت میں رکھوں گا برپا اے جنوں دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ
میں جنون کے صحرا میں ہمیشہ شور و غل برپا رکھوں گا؛ اے دیوانگی، دیکھنا کہیں میرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ دینا۔
3
देख टुक ग़ौर से आईना-ए-दिल को मेरे इस में आता है नज़र आलम-ए-तस्वीर न तोड़
دیکھ ٹک غور سے آئینۂ دل کو میرے اس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ
ذرا غور سے میرے دل کے آئینے کو دیکھو۔ اس میں تصویروں کی ایک دنیا نظر آتی ہے، اس لیے اسے مت توڑو۔
4
ताज-ए-ज़र के लिए क्यूँ शम्अ का सर काटे है रिश्ता-ए-उल्फ़त-ए-परवाना को गुल-गीर न तोड़
تاج زر کے لیے کیوں شمع کا سر کاٹے ہے رشتۂ الفت پروانہ کو گل گیر نہ توڑ
سونے کے تاج کی خاطر شمع کا سر کیوں کاٹتے ہو؟ اے گل گیر، شمع اور پروانے کے محبت کے رشتے کو مت توڑو۔
5
अपने बिस्मिल से ये कहता था दम-ए-नज़अ वो शोख़ था जो कुछ अहद सो ओ आशिक़-ए-दिल-गीर न तोड़
اپنے بسمل سے یہ کہتا تھا دم نزع وہ شوخ تھا جو کچھ عہد سو او عاشق دلگیر نہ توڑ
وہ شوخ محبوب نزع کے وقت اپنے تڑپتے ہوئے عاشق سے کہہ رہا تھا کہ اے غمگین عاشق، جو بھی وعدہ تھا اسے مت توڑنا۔
6
रक़्स-ए-बिस्मिल का तमाशा मुझे दिखला कोई दम दस्त ओ पा मार के दम तू तह-ए-शमशीर न तोड़
رقص بسمل کا تماشا مجھے دکھلا کوئی دم دست و پا مار کے دم تو تہ شمشیر نہ توڑ
مجھے کچھ دیر کے لیے تڑپتے ہوئے بسمل کے رقص کا تماشا دیکھنے دو؛ تلوار کے نیچے ہاتھ پاؤں مار کر اتنی جلدی اپنی جان مت گنواؤ۔
7
सहम कर ऐ 'ज़फ़र' उस शोख़ कमाँ-दार से कह खींच कर देख मिरे सीने से तू तीर न तोड़
سہم کر اے ظفرؔ اس شوخ کماندار سے کہہ کھینچ کر دیکھ مرے سینے سے تو تیر نہ توڑ
اے ظفر، خوفزدہ ہو کر اس شوخ تیر انداز سے کہو کہ وہ میرے سینے سے تیر کو احتیاط سے کھینچ کر نکالے، اسے اندر ہی نہ توڑے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.