“I shall keep the wild clamour stirred in the valley of despair; / O madness, take heed—do not break the chain upon my feet!”
میں جنون کے صحرا میں ہمیشہ شور و غل برپا رکھوں گا؛ اے دیوانگی، دیکھنا کہیں میرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ دینا۔
اس شعر میں وحشت اور قید کے تعلق کو ایک انوکھے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ عاشق صحرائے جنون میں تنہا ہے اور اپنے ہی شوق کی دیوانگی سے التجا کرتا ہے کہ اس کے پاؤں کی بیڑیاں سلامت رہیں۔ عام طور پر زنجیریں قید کی علامت ہیں، مگر عاشق کے لیے چلتے ہوئے ان کڑیوں کی جھنکار اس ویرانے کے سناٹے کو توڑتی ہے اور دنیا کو اس کے زندہ اور برپا رہنے کا پتا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
