“Trembling with fear, O Zafar, plead with that playful archer fair: / Pull the arrow gently from my breast, do not break it there.”
اے ظفر، خوفزدہ ہو کر اس شوخ تیر انداز سے کہو کہ وہ میرے سینے سے تیر کو احتیاط سے کھینچ کر نکالے، اسے اندر ہی نہ توڑے۔
اس شعر میں ظفر اپنے محبوب کو ایک شوخ اور بے پروا تیر انداز کے روپ میں دیکھتے ہیں جس کے تیرِ ستم نے عاشق کے سینے کو چھلنی کر دیا ہے۔ وہ لرزتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ اگر سینے سے یہ تیر نکالنا ہی ہے تو ذرا احتیاط اور نرمی سے نکالو، کہیں یہ ٹوٹ کر دل کے اندر ہی نہ رہ جائے۔ یہ دراصل محبت کی اس نزاکت کا بیان ہے جہاں محبوب کی ادنیٰ سی لاپروائی بھی جدائی کے زخم کو ہمیشہ کے لیے ناسور بنا سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
