“Let me behold a while the spectacle of the slaughtered prey's dance; flailing your hands and feet beneath the sword, do not yield your breath in haste.”
مجھے کچھ دیر کے لیے تڑپتے ہوئے بسمل کے رقص کا تماشا دیکھنے دو؛ تلوار کے نیچے ہاتھ پاؤں مار کر اتنی جلدی اپنی جان مت گنواؤ۔
اردو شاعری میں ’رقصِ بسمل‘ نیم بسمل شکار کی اس تڑپ کو کہتے ہیں جو عاشق کے اضطراب اور قربانی کی علامت ہے۔ اس شعر میں محبوب تلوار کے سائے تلے دم توڑتے عاشق سے کہہ رہا ہے کہ وہ اتنی جلدی جان نہ ہارے، بلکہ دست و پا مار کر اپنی تڑپ کا تماشا کچھ دیر اور قائم رکھے۔ یہ شعر عشق کی اس ستم ظریفی اور الم ناک حسن کو بیان کرتا ہے جہاں عاشق کی جاں کنی بھی محبوب کے لیے ایک دلکش نظارہ بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
