“Why sever the candle's head merely for a crown of gold? / O snuffer, do not break the moth's tender thread of love.”
سونے کے تاج کی خاطر شمع کا سر کیوں کاٹتے ہو؟ اے گل گیر، شمع اور پروانے کے محبت کے رشتے کو مت توڑو۔
شاعر یہاں گل گیر یعنی شمع کی بتی تراشنے والے آلے سے کہتا ہے کہ تو ذرا سے سنہری انگارے یا نام نہاد تاج کے لیے کیوں شمع کا سر قلم کر رہا ہے؟ ایسا کر کے تو دراصل پروانے اور شمع کے درمیان بندھے ہوئے محبت کے اس نازک رشتے کو بے دردی سے کاٹ رہا ہے۔ یہ شعر مادی فائدے اور دنیا کی اس بے حس مداخلت کا گلہ کرتا ہے جو دو سچے چاہنے والوں کے پاکیزہ تعلق کو ایک پل میں راکھ کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
