“To their dying prey, in his parting breath, that cruel tormentor said: / 'Whatever vow was pledged, O grief-stricken lover, break it not!'”
وہ شوخ محبوب نزع کے وقت اپنے تڑپتے ہوئے عاشق سے کہہ رہا تھا کہ اے غمگین عاشق، جو بھی وعدہ تھا اسے مت توڑنا۔
یہ شعر عشق کی نازک ستم ظریفی اور محبوب کی دلکش بے نیازی کی لاجواب تصویر ہے۔ عاشق نزع کے عالم میں دم توڑ رہا ہے، مگر محبوب اس پر ترس کھانے کے بجائے الٹا وفا کا عہد یاد دلا رہا ہے کہ مرتے دم بھی پیمانِ محبت مت توڑنا۔ یہاں درد اور ستم کی انتہا ہے، جہاں جان تو نکل رہی ہے مگر محبت کی شرط اور وفاداری کی آزمائش اب بھی قائم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
