غزل
કશી વાત વગર
કશી વાત વગર
یہ غزل ایک محبت کا نغمہ ہے جو بغیر کسی خاص وجہ کے عشق کے گہرے احساس کو بیان کرتی ہے۔ اس میں جدائی اور ملن کے جذبات کا خوبصورت امتزاج ہے، جو عشق کی فطری اور لازمی حیثیت کو نمایاں کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
દુઃખ વગર, દર્દ વગર, દુ:ખની કશી વાત વગર,
મન વલોવાય છે ક્યારેક વલોપાત વગર.
بغیر غم کے، بغیر درد کے، غم کی کوئی بات بھی بن،دل مضطرب ہوتا ہے کبھی کبھی واویلا کے بن۔
غم، درد یا کسی دکھ کی بات کے بغیر بھی، دل کبھی کبھی بنا کسی آہ و زاری کے اندر ہی اندر پریشان ہو جاتا ہے۔
2
આંખથી આંખ લડી બેઠી કશી વાત વગર,
કંઈ શરૂ આમ થઈ વાત શરૂઆત વગર.
آنکھ سے آنکھ ملی، بیٹھی کسی بات کے بغیر،کچھ شروع یوں ہوا، بات شروع ہوئی بنا آغاز کے۔
آنکھ سے آنکھ ملی اور بغیر کسی بات کے ایک خاموش تعلق قائم ہو گیا۔ یوں کچھ ایسا شروع ہو گیا، جیسے کوئی کہانی یا رشتہ، بغیر کسی رسمی آغاز کے۔
3
કોલ પાળે છે ઘણી વાર કબૂલાત વગર,
એ મળી જાય છે રસ્તામાં મુલાકાત વગર.
وہ وعدہ نبھاتا ہے اکثر اقرار کے بغیر،وہ مل جاتا ہے راہ میں ملاقات کے بغیر۔
وہ اکثر کسی اقرار کے بغیر اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔ وہ راستے میں بغیر کسی ملاقات کے مل جاتا ہے۔
4
આ મજા કોણ ચખાડત મને આઘાત વગર?
તારલાઓ હું નિહાળું છું સદા રાત વગર.
یہ مزہ کون چکھاتا مجھے صدمے کے بغیر؟تاروں کو میں تکتا ہوں سدا رات کے بغیر۔
یہ شعر سوال کرتا ہے کہ صدمے کے بغیر یہ خوشی کون چکھاتا، اور پھر بیان کرتا ہے کہ شاعر ہمیشہ رات کے بغیر بھی تاروں کو دیکھتا ہے۔
5
સાકિયા! પીધા વગર તો નહિ ચાલે મુજને!
તું કહે તો હું ચલાવી લઉં દિનરાત વગર.
ساقیا! پیے بنا تو نہیں چلے گا مجھ سے! تُو کہے تو میں نبھا لوں دن رات کے بغیر۔
اے ساقیا! میں پیے بغیر نہیں گزارا کر سکتا۔ لیکن اگر تو کہے تو میں دن رات کے بغیر بھی نبھا لوں گا۔
6
કોઈ ને કોઈ અચાનક ગયું જીવનમાં મરી,
એક દિવસ ન ગયો હાય, અકસ્માત વગર.
کوئی نہ کوئی اچانک گیا جیون میں مر،ایک دن نہ گیا ہائے، حادثے کے بغیر۔
کوئی نہ کوئی اچانک زندگی میں مر گیا۔ ہائے، ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جس میں کوئی حادثہ نہ ہوا ہو۔
7
એમ મજબૂરી મહીં મનની રહી ગઈ મનમાં,
એક ગઝલ જેમ મરી જાય રજૂઆત વગર.
یوں مجبوری میں من کی رہ گئی من ہی میں، ایک غزل جیسے مر جاتی ہے پیشکش کے بغیر۔
مجبوری کے سبب دل کی بات دل ہی میں رہ گئی، بالکل ویسے ہی جیسے ایک غزل پیشکش کے بغیر ہی دم توڑ دیتی ہے۔
8
કામમાં હોય તો, દરવાન, કહે, ઊભો છું!
આ મુલાકાતી નહીં જાય મુલાકાત વગર.
کام میں ہوں تو، درباں، کہو، 'میں کھڑا ہوں!'یہ ملاقاتی نہیں جائے گا ملاقات کے بغیر۔
درباں، انہیں اطلاع دو کہ اگر وہ مصروف ہیں، تو میں انتظار کر رہا ہوں، کیونکہ یہ ملاقاتی ان سے ملے بغیر نہیں جائے گا۔
9
અશ્રુ કેરો હું બહિષ્કાર કરી દઉં કિન્તુ,
ચાલતું દિલને નથી દર્દની સોગાત વગર,
اشکوں کا میں بائیکاٹ کر دوں لیکن،دل چل نہیں پاتا درد کی سوغات کے بغیر۔
میں آنسوؤں کا بائیکاٹ کر سکتا ہوں، لیکن میرا دل درد کی سوغات کے بغیر چل نہیں پاتا۔
10
લાક્ષણિક અર્થ જેનો થાય છે જીવનનું ખમીર,
કાંઈ ચમકી નથી શકતું એ ઝવેરાત વગર.
جس کا علامتی معنی ہے زندگی کا خمیر،کچھ بھی چمک نہیں سکتا اس زیور کے بغیر۔
جس کا علامتی معنی زندگی کا خمیر ہے، وہ اس زیور کے بغیر چمک نہیں سکتا۔
11
આ કલા કોઈ શીખે મિત્રો કનેથી 'ઘાયલ',
વેર લેવાય છે શી રીતે વસૂલાત વગર.
یہ کلا کوئی سیکھے دوستوں سے 'گھائل'، بدلہ لیا جاتا ہے کیسے، وصولی کے بغیر۔
'گھائل' کہتے ہیں کہ یہ ہنر کوئی دوستوں سے سیکھتا ہے۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ بدلہ کسی وصولی یا معاوضے کے بغیر کیسے لیا جا سکتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
