یوں مجبوری میں من کی رہ گئی من ہی میں، ایک غزل جیسے مر جاتی ہے پیشکش کے بغیر۔
“Thus, due to helplessness, the heart's desire remained within, Like a ghazal that dies without being presented.”
— امرت گھائل
معنی
مجبوری کے سبب دل کی بات دل ہی میں رہ گئی، بالکل ویسے ہی جیسے ایک غزل پیشکش کے بغیر ہی دم توڑ دیتی ہے۔
تشریح
یہ شعر دل اور فن کی نازکی کو ایک ساتھ بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ جب انسان مجبوری میں ہوتا ہے، تو اس کے جذبات اندر ہی رہ جاتے ہیں۔ بالکل ایک غزل کی طرح، جو پیشکش کے بغیر مر جاتی ہے۔
