یہ مزہ کون چکھاتا مجھے صدمے کے بغیر؟تاروں کو میں تکتا ہوں سدا رات کے بغیر۔
“Who would have made me taste this joy, without pain?I always gaze at the stars, without the night.”
— امرت گھائل
معنی
یہ شعر سوال کرتا ہے کہ صدمے کے بغیر یہ خوشی کون چکھاتا، اور پھر بیان کرتا ہے کہ شاعر ہمیشہ رات کے بغیر بھی تاروں کو دیکھتا ہے۔
تشریح
یہ شعر زندگی کے گہرے تجربات پر ایک فلسفیانہ سوچ ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ یہ لطف صدمے کے بغیر کیسے چکھا جا سکتا ہے؟ رات کے بغیر ستاروں کو تکنا.... ایک مسلسل اور لازوال کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، جو خوبصورت بھی ہے اور بہت زیادہ بھی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
