غزل
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
یہ غزل خاموشی توڑنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ندامت اور خفت کی کیفیت بیان کرتی ہے۔ شاعر کو ملال ہے کہ بولنے کی وجہ سے بنی بنائی بات بگڑ گئی اور ضبط و خاموشی کا جو بھرم قائم تھا، وہ پل بھر میں ٹوٹ گیا۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
बात कुछ हम से बन न आई आज
बोल कर हम ने मुँह की खाई आज
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
بول کر ہم نے منہ کی کھائی آج
آج ہم سے کوئی بات ڈھنگ سے نہیں بن سکی اور بول کر ہمیں صرف شکست اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
2
चुप पर अपनी भरम थे क्या क्या कुछ
बात बिगड़ी बनी बनाई आज
چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھ
بات بگڑی بنی بنائی آج
میری خاموشی پر مجھے کیا کیا بھرم تھے، مگر آج بنی بنائی بات بھی بگڑ گئی۔
3
शिकवा करने की ख़ू न थी अपनी
पर तबीअत ही कुछ भर आई आज
شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنی
پر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج
شکوہ کرنے کی میری عادت کبھی نہیں تھی، لیکن آج میرا دل ہی بھر آیا۔
4
बज़्म साक़ी ने दी उलट सारी
ख़ूब भर भर के ख़ुम लुंढाई आज
بزم ساقی نے دی الٹ ساری
خوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج
آج ساقی نے شراب کے بھرے ہوئے مٹکے خوب انڈیل کر ساری محفل کو تہ و بالا کر دیا۔
5
मासियत पर है देर से या रब
नफ़्स और शरा में लड़ाई आज
معصیت پر ہے دیر سے یا رب
نفس اور شرع میں لڑائی آج
اے میرے پروردگار، گناہ کرنے پر آج نفس اور شریعت کے درمیان کافی دیر سے کشمکش اور لڑائی چل رہی ہے۔
6
ग़ालिब आता है नफ़्स-ए-दूँ या शरअ'
देखनी है तिरी ख़ुदाई आज
غالب آتا ہے نفس دوں یا شرع
دیکھنی ہے تری خدائی آج
آج یہ دیکھنا ہے کہ نیچ خواہشات حاوی ہوتی ہیں یا شریعت؛ آج تیری خدائی کا نظارہ دیکھنا ہے۔
7
चोर है दिल में कुछ न कुछ यारो
नींद फिर रात भर न आई आज
چور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارو
نیند پھر رات بھر نہ آئی آج
اے دوستو! دل میں ضرور کچھ نہ کچھ چور یا چھپا ہوا خوف ہے، کیونکہ آج پھر مجھے رات بھر نیند نہیں آئی۔
8
ज़द से उल्फ़त की बच के चलना था
मुफ़्त 'हाली' ने चोट खाई आज
زد سے الفت کی بچ کے چلنا تھا
مفت حالیؔ نے چوٹ کھائی آج
محبت کی زد یا نشانے سے بچ کر چلنا چاہیے تھا، لیکن آج حالیؔ نے بلاوجہ ہی چوٹ کھا لی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
