“One ought to have steered clear of love's line of fire; for nothing did Hali suffer a wound today.”
محبت کی زد یا نشانے سے بچ کر چلنا چاہیے تھا، لیکن آج حالیؔ نے بلاوجہ ہی چوٹ کھا لی۔
حالیؔ نے اس شعر میں محبت کو کسی تیر یا حملے کی ایسی زد قرار دیا ہے جہاں سے انسان کو دامن بچا کر گزرنا چاہیے تھا۔ وہ بڑے پیار بھرے انداز میں خود پر طنز کرتے ہیں کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی بے احتیاطی کی اور مفت میں دل پر چوٹ کھا بیٹھے۔ یہ شعر عشق کی اس معصومانہ بے بسی کو پیش کرتا ہے جہاں انسان اپنی ہی سادگی پر مسکرا کر پچھتا رہا ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
