“Over the act of sin, O Lord, a battle has waged so long— Between base desire and sacred law today.”
اے میرے پروردگار، گناہ کرنے پر آج نفس اور شریعت کے درمیان کافی دیر سے کشمکش اور لڑائی چل رہی ہے۔
یہ شعر انسان کے باطن میں گناہ کے موقع پر جاری اس ازلی کشمکش کا آئینہ دار ہے جو روح اور جسم کے درمیان چھڑی رہتی ہے۔ شاعر اپنے رب سے مخاطب ہو کر اعتراف کرتا ہے کہ خواہشاتِ نفس اور شرعی احکامات کے بیچ ایک لمبی جنگ برپا ہے۔ یہ کوئی خشک وعظ نہیں بلکہ خدا کے حضور ایک کمزور دل کا سچا اعتراف اور اس کی اندرونی الجھن کا نہایت پُراثر اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
