“There lurks some secret thief within the heart, my friends, it seems; tonight again, the whole night passed untouched by sleep or dreams.”
اے دوستو! دل میں ضرور کچھ نہ کچھ چور یا چھپا ہوا خوف ہے، کیونکہ آج پھر مجھے رات بھر نیند نہیں آئی۔
شاعر اپنے دوستوں کے سامنے دل کا احوال رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ سینے میں کوئی ایسا راز، ان کہی چاہت یا بے نام سا خوف چھپا ہے جو چین سے جینے نہیں دے رہا۔ روزمرہ کے محاورے 'دل میں چور ہونا' کے سہارے نیند کے اڑ جانے کا سبب بیان کیا گیا ہے، جہاں رات بھر کی بے خوابی دل کی بے چینی کی چغلی کھاتی ہے۔ یہ شعر اس اندرونی کشمکش کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے جس سے انسان بظاہر بھاگنا چاہتا ہے مگر تنہائی میں اس کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
