“The cupbearer turned the whole gathering upside down; today, brimming casks of wine were tipped over without measure.”
آج ساقی نے شراب کے بھرے ہوئے مٹکے خوب انڈیل کر ساری محفل کو تہ و بالا کر دیا۔
اس شعر میں رندی اور سرور کا ایک ایسا والہانہ منظر کھینچا گیا ہے جہاں ساقی نے پیمانوں کی احتیاط چھوڑ کر مے کے بڑے بڑے خم ہی الٹ دیے۔ یہ دراصل رسم و رواج اور ضبط کے ٹوٹنے کا اعلان ہے، جہاں بے خودی سب کچھ بہا لے جاتی ہے۔ استعاراتی طور پر یہ اُس لمحے کی عکاسی ہے جب عشق یا معرفت کا فیض اس قدر بے حساب برستا ہے کہ پوری بزم کا توازن اور ہوش الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
