غزل
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
یہ غزل محبوب کی ضد، شوخی اور ناز و انداز کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے، جو عاشق کی تمناؤں کو پورا نہ کرنے پر بضد ہے۔ اس میں محبت کے دلکش انکار، بے قراری اور عشقیہ چھیڑ چھاڑ کی کیفیتیں بڑی نزاکت کے ساتھ اجاگر ہوتی ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ज़िद है उन्हें पूरा मिरा अरमाँ न करेंगे
मुँह से जो नहीं निकली है अब हाँ न करेंगे
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
منہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے
انہیں اس بات کی ضد ہے کہ وہ میری تمنا پوری نہیں کریں گے، اور جو اقرار یا 'ہاں' اب تک ان کے منہ سے نہیں نکلی، وہ اب اسے کبھی نہیں کہیں گے۔
2
क्यूँ ज़ुल्फ़ का बोसा मुझे लेने नहीं देते
कहते हैं कि वल्लाह परेशाँ न करेंगे
کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے
کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے
آپ مجھے اپنی زلف کا بوسہ کیوں نہیں لینے دیتے، حالانکہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں انہیں بکھیروں گا نہیں۔
3
है ज़ेहन में इक बात तुम्हारे मुतअल्लिक़
ख़ल्वत में जो पूछोगे तो पिन्हाँ न करेंगे
ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلق
خلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے
میرے ذہن میں تمہارے بارے میں ایک بات ہے، اگر تم تنہائی میں پوچھو گے تو میں اسے تم سے نہیں چھپاؤں گا۔
4
वाइज़ तो बनाते हैं मुसलमान को काफ़िर
अफ़्सोस ये काफ़िर को मुसलमाँ न करेंगे
واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر
افسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے
واعظ تو مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر انہیں کافر بنا دیتے ہیں، مگر افسوس کہ وہ کبھی کسی کافر کو مسلمان نہیں بنائیں گے۔
5
क्यूँ शुक्र-गुज़ारी का मुझे शौक़ है इतना
सुनता हूँ वो मुझ पर कोई एहसाँ न करेंगे
کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا
سنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے
مجھے شکر گزاری کا اتنا شوق کیوں ہے، جبکہ میں سن رہا ہوں کہ وہ مجھ پر کوئی احسان نہیں کریں گے؟
6
दीवाना न समझे हमें वो समझे शराबी
अब चाक कभी जेब ओ गरेबाँ न करेंगे
دیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابی
اب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے
وہ ہمیں دیوانہ سمجھنے کے بجائے شرابی سمجھ لیں، مگر اب ہم کبھی اپنا گریبان اور جیب چاک نہیں کریں گے۔
7
वो जानते हैं ग़ैर मिरे घर में है मेहमाँ
आएँगे तो मुझ पर कोई एहसाँ न करेंगे
وہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماں
آئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے
وہ جانتے ہیں کہ غیر میرے گھر میں مہمان ہے، اس لیے اگر وہ آئیں گے بھی تو مجھ پر کوئی احسان نہیں کریں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
