واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر — اکبر الہ آبادی
“The preacher merely turns the faithful believer into an infidel; alas, an infidel into a true believer he shall never make.”
معنی
واعظ تو مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر انہیں کافر بنا دیتے ہیں، مگر افسوس کہ وہ کبھی کسی کافر کو مسلمان نہیں بنائیں گے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے تنگ نظر واعظ اور اس کی ظاہری پارسائی پر بڑا خوبصورت اور گہرا طنز کیا ہے۔ واعظ کی ساری توانائیاں صرف اس بات پر خرچ ہوتی ہیں کہ وہ اپنی بے جا سختی اور فتوؤں سے کلمہ گو مسلمانوں کو بھی کافر اور گمراہ ثابت کر دیتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے پاس وہ اخلاق، محبت اور روحانی کشش سرے سے موجود ہی نہیں جس سے وہ کسی کا دل جیت کر اسے سچائی کے راستے پر لا سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
