دیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابی — اکبر الہ آبادی
“Let them take me for a drunkard, but never one driven mad; / Never again shall I tear open my pocket and my collar.”
معنی
وہ ہمیں دیوانہ سمجھنے کے بجائے شرابی سمجھ لیں، مگر اب ہم کبھی اپنا گریبان اور جیب چاک نہیں کریں گے۔
تشریح
اردو شاعری میں گریبان چاک کرنا جنون اور بے قابو عشق کی روایتی علامت ہے۔ شاعر اپنی انا اور وقار کا بھرم رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دنیا بھلے ہی اسے بدنام شرابی سمجھ لے، مگر وہ گریبان پھاڑ کر اپنی دیوانگی کا تماشا نہیں بننے دے گا۔ وہ اپنے سچے درد اور عشق کی گہرائی کو مے نوشی کے پردے میں چھپا کر زمانے کی بے رحم نظروں سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
