غزل

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 8 shers· radif: है

یہ غزل باہمی الفت کے زوال اور رشتوں میں بڑھتی ہوئی بے اعتنائی اور برہمی کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنی سچی وفاداری اور اطاعت کے باوجود محبوب کے بدلے ہوئے تیور اور سرد مہری پر رنج و ملال کا اظہار کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कहाँ वो अब लुत्फ़-ए-बाहमी है मोहब्बतों में बहुत कमी है चली है कैसी हवा इलाही कि हर तबीअत में बरहमी है
کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے چلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے
اب آپس کا وہ لطف اور پیار کہاں رہا، محبتوں میں بہت کمی آ گئی ہے۔ اے خدا، یہ کیسی ہوا چلی ہے کہ ہر شخص کے مزاج اور طبیعت میں بے چینی اور برہمی ہے۔
2
मिरी वफ़ा में है क्या तज़लज़ुल मिरी इताअ'त में क्या कमी है ये क्यूँ निगाहें फिरी हैं मुझ से मिज़ाज में क्यूँ ये बरहमी है
مری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہے یہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے
کیا میری وفاداری میں کوئی لغزش آ گئی ہے یا میری فرماں برداری میں کوئی کمی رہ گئی ہے، جو تم نے مجھ سے نظریں پھیر لی ہیں اور تمہارے مزاج میں یہ برہمی ہے؟
3
वही है फ़ज़्ल-ए-ख़ुदा से अब तक तरक़्की-ए-कार-ए-हुस्न ओ उल्फ़त न वो हैं मश्क़-ए-सितम में क़ासिर न ख़ून-ए-दिल की यहाँ कमी है
وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفت نہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے
خدا کے فضل سے حسن و عشق کا کاروبار اب بھی ویسے ہی عروج پر ہے؛ نہ تو وہ ظلم ڈھانے میں کوئی کسر چھوڑتے ہیں اور نہ ہی یہاں خونِ دل کی کوئی کمی ہے۔
4
अजीब जल्वे हैं होश दुश्मन कि वहम के भी क़दम रुके हैं अजीब मंज़र हैं हैरत-अफ़्ज़ा नज़र जहाँ थी वहीं थमी है
عجیب جلوے ہیں ہوش دشمن کہ وہم کے بھی قدم رکے ہیں عجیب منظر ہیں حیرت افزا نظر جہاں تھی وہیں تھمی ہے
ایسے عجیب اور ہوش اڑا دینے والے جلوے ہیں کہ گمان کے بھی قدم رک گئے ہیں، اور نظارے اتنے حیرت انگیز ہیں کہ نظر جہاں تھی وہیں جم کر رہ گئی ہے۔
5
न कोई तकरीम-ए-बाहमी है न प्यार बाक़ी है अब दिलों में ये सिर्फ़ तहरीर में डियर सर है या जनाब-ए-मुकर्रमी है
نہ کوئی تکریم باہمی ہے نہ پیار باقی ہے اب دلوں میں یہ صرف تحریر میں ڈیر سر ہے یا جناب مکرمی ہے
اب دلوں میں نہ کوئی باہمی احترام بچا ہے اور نہ ہی محبت، یہ بس خط و کتابت کی حد تک رسمی طور پر 'ڈیئر سر' یا 'جنابِ مکرمی' رہ گیا ہے۔
6
कहाँ के मुस्लिम कहाँ के हिन्दू भुलाई हैं सब ने अगली रस्में अक़ीदे सब के हैं तीन-तेरह न ग्यारहवीं है न अष्टमी है
کہاں کے مسلم کہاں کے ہندو بھلائی ہیں سب نے اگلی رسمیں عقیدے سب کے ہیں تین تیرہ نہ گیارہویں ہے نہ اسٹمی ہے
اب نہ کوئی سچا مسلمان رہا ہے اور نہ ہندو، کیونکہ سب نے اپنی پرانی رسمیں بھلا دی ہیں۔ لوگوں کے عقائد منتشر ہو چکے ہیں اور اب نہ گیارہویں منائی جاتی ہے اور نہ اشٹمی۔
7
नज़र मिरी और ही तरफ़ है हज़ार रंग-ए-ज़माना बदले हज़ार बातें बनाए नासेह जमी है दिल में जो कुछ जमी है
نظر مری اور ہی طرف ہے ہزار رنگ زمانہ بدلے ہزار باتیں بنائے ناصح جمی ہے دل میں جو کچھ جمی ہے
میری نظر کسی اور ہی طرف ہے چاہے دنیا ہزار رنگ بدل لے، اور نصیحت کرنے والا چاہے جتنی باتیں بنا لے، جو بات میرے دل میں بیٹھ گئی ہے وہ ویسی ہی قائم رہے گی۔
8
अगरचे मैं रिंद-ए-मोहतरम हूँ मगर इसे शैख़ से न पूछो कि उन के आगे तो इस ज़माने में सारी दुनिया जहन्नमी है
اگرچہ میں رند محترم ہوں مگر اسے شیخ سے نہ پوچھو کہ ان کے آگے تو اس زمانے میں ساری دنیا جہنمی ہے
اگرچہ میں ایک باوقار اور محترم رند ہوں، لیکن یہ بات شیخ سے نہ پوچھنا، کیونکہ ان کی نظر میں تو اس زمانے میں ساری دنیا ہی جہنمی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.