“Where now is that mutual joy of old, when love has grown so scarce and slight? What strange wind blows, O God, that every soul is tossed in troubled plight?”
اب آپس کا وہ لطف اور پیار کہاں رہا، محبتوں میں بہت کمی آ گئی ہے۔ اے خدا، یہ کیسی ہوا چلی ہے کہ ہر شخص کے مزاج اور طبیعت میں بے چینی اور برہمی ہے۔
اس شعر میں شاعر معاشرے سے رفتہ رفتہ رخصت ہوتے ہوئے باہمی پیار، یگانگت اور ہمدردی پر درد بھرے انداز میں نوحہ کناں ہے۔ 'ہوا' کا استعارہ دراصل اس پوشیدہ اجتماعی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جس نے دلوں کو جوڑنے کے بجائے ہر طبیعت میں بے چینی اور جھنجھلاہٹ بھر دی ہے۔ یہ گہری حسرت اور حیرت کا اظہار ہے کہ آخر وہ دل نشیں اپنائیت اور سکون کہاں گم ہو گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
