“My gaze is turned elsewhere, though the world change its hues a thousand times; let the preacher spin a thousand tales, what is etched in my heart remains.”
میری نظر کسی اور ہی طرف ہے چاہے دنیا ہزار رنگ بدل لے، اور نصیحت کرنے والا چاہے جتنی باتیں بنا لے، جو بات میرے دل میں بیٹھ گئی ہے وہ ویسی ہی قائم رہے گی۔
اس شعر میں شاعر اپنی اٹل وابستگی اور والہانہ پن کا اظہار کر رہا ہے، جس پر زمانے کی گردشوں اور بدلتے رنگوں کا ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔ دنیا چاہے لاکھ بہروپ بدلے اور ناصح کتنا ہی سمجھانے کی کوشش کرے، دل اپنی دھن اور نگاہ اپنے مرکز سے نہیں ہٹتی۔ یہ دل کی اس گہری یکسوئی کا بیان ہے جہاں ایک بار بسا ہوا پختہ یقین ہر دنیاوی نصیحت پر حاوی رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
