وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفت نہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے

“By the grace of God, the commerce of love and beauty still thrives as of old: she is never remiss in practicing cruelty, nor does my heart's blood ever run cold.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

خدا کے فضل سے حسن و عشق کا کاروبار اب بھی ویسے ہی عروج پر ہے؛ نہ تو وہ ظلم ڈھانے میں کوئی کسر چھوڑتے ہیں اور نہ ہی یہاں خونِ دل کی کوئی کمی ہے۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں بڑے خوبصورت اور شگفتہ طنزیہ انداز میں حسن و عشق کے تعلق کو ایک پھلتے پھولتے کاروبار سے تشبیہ دی ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے یہ سلسلہ اب بھی ماند نہیں پڑا، کیونکہ محبوب ستم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اور عاشق کے پاس دل کا لہو نچھاور کرنے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یہ درد اور وفا کا وہی میٹھا توازن ہے جو اس رشتے کو ہمیشہ زندہ اور پرجوش رکھتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.