“Such strange displays confound all sense, even fancy's footsteps stall; such wondrous sights stir boundless awe, the gaze stays frozen where it fell.”
ایسے عجیب اور ہوش اڑا دینے والے جلوے ہیں کہ گمان کے بھی قدم رک گئے ہیں، اور نظارے اتنے حیرت انگیز ہیں کہ نظر جہاں تھی وہیں جم کر رہ گئی ہے۔
یہ شعر بے پناہ حسن اور حیرت کے اُس عالم کو بیان کرتا ہے جہاں انسان کے ہوش و حواس جواب دے جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ سامنے رونما ہونے والی تجلی اتنی مسحور کن ہے کہ تخیل اور وہم کی پرواز بھی دم توڑ دیتی ہے۔ اس حیرت انگیز منظر نے دیکھنے والے پر ایسا سحر طاری کر دیا ہے کہ نگاہ جہاں ٹکی تھی، وہیں ساکت و جامد ہو کر رہ گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
