“Though I may be a respected libertine, ask not the pious Sheikh of this; for in his sight, in this day and age, all the world is bound for hell.”
اگرچہ میں ایک باوقار اور محترم رند ہوں، لیکن یہ بات شیخ سے نہ پوچھنا، کیونکہ ان کی نظر میں تو اس زمانے میں ساری دنیا ہی جہنمی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے خود پسند زاہدوں اور ریاکار ناصحوں پر نہایت خوبصورت اور طنز آمیز چوٹ کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگرچہ وہ مے نوشی اور رندی کے باوجود باوقار اور محترم ہے، لیکن اس کے کردار کی گواہی شیخ سے نہ مانگی جائے۔ شیخ صاحب کی تنگ نظری کا تو یہ عالم ہے کہ ان کے نزدیک ان کے سوا یہ ساری کائنات ہی گناہ گار اور دوزخی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
