“Where are the Muslims, where are the Hindus? All ancient rites are cast away; all faiths lie shattered in disarray, leaving neither Gyarahvi nor Ashtami's sacred day.”
اب نہ کوئی سچا مسلمان رہا ہے اور نہ ہندو، کیونکہ سب نے اپنی پرانی رسمیں بھلا دی ہیں۔ لوگوں کے عقائد منتشر ہو چکے ہیں اور اب نہ گیارہویں منائی جاتی ہے اور نہ اشٹمی۔
شاعر نے اس شعر میں روایات سے کٹتے ہوئے سماج کا دکھ بڑے دلچسپ اور معنی خیز انداز میں بیان کیا ہے۔ یہاں 'تین تیرہ' (بکھر جانے) کے محاورے کو 'گیارہویں' اور 'اسٹمی' جیسی متبرک تاریخوں کے ساتھ لا کر ایک خوبصورت لفظی رعایت پیدا کی گئی ہے۔ دراصل یہ اس المیے کا اظہار ہے کہ ظاہری شناخت کے دعووں کے بیچ لوگ اپنی سچی روحانی اقدار اور باہمی عقیدت کو بھلا بیٹھے ہیں، اور ایمان محض لفظی باتوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
