غزل

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 9 shers· radif: के

یہ غزل محبوب کے حسن اور اس کی دلربا زلفوں کے سحر انگیز فریب کا احاطہ کرتی ہے، جنہیں عاشق کے دل کو اسیر کرنے والا دام قرار دیا گیا ہے۔ روایتی استعاروں اور شوخی کے ساتھ، شاعر نگاہِ شوق کو خبردار کرتے ہوئے محبوب کے حسن و نزاکت کی دلنشین تصویر کشی کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हल्क़े नहीं हैं ज़ुल्फ़ के हल्क़े हैं जाल के हाँ ऐ निगाह-ए-शौक़ ज़रा देख-भाल के
حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے ہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے
2
पहुँचे हैं ता-कमर जो तिरे गेसू-ए-रसा मा'नी ये हैं कमर भी बराबर है बाल के
پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسا معنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے
3
बोस-ओ-कनार-ओ-वस्ल-ए-हसीनाँ है ख़ूब शग़्ल कमतर बुज़ुर्ग होंगे ख़िलाफ़ इस ख़याल के
بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغل کمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے
4
क़ामत से तेरे साने-ए-क़ुदरत ने ऐ हसीं दिखला दिया है हश्र को साँचे में ढाल के
قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیں دکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے
5
शान-ए-दिमाग़ इश्क़ के जल्वे से ये बढ़ी रखता है होश भी क़दम अपने सँभाल के
شان دماغ عشق کے جلوے سے یہ بڑھی رکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے
6
ज़ीनत मुक़द्दमा है मुसीबत का दहर में सब शम्अ' को जलाते हैं साँचे में ढाल के
زینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میں سب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے
7
हस्ती के हक़ के सामने क्या अस्ल-ए-ईन-ओ-आँ पुतले ये सब हैं आप के वहम-ओ-ख़याल के
ہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آں پتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے
8
तलवार ले के उठता है हर तालिब-ए-फ़रोग़ दौर-ए-फ़लक में हैं ये इशारे हिलाल के
تلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغ دور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے
9
पेचीदा ज़िंदगी के करो तुम मुक़द्दमे दिखला ही देगी मौत नतीजा निकाल के
پیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمے دکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے | Sukhan AI