“These are not mere curls of her hair, but loops of a hunter's snare; O glance of yearning desire, beware and tread with care!”
یہ محبوب کی زلفوں کے چھلے نہیں ہیں بلکہ جال کے پھندے ہیں، اس لیے اے شوق بھری نگاہ ذرا سنبھل کر اور دیکھ بھال کر نظر اٹھانا۔
شاعر یہاں محبوب کی گھنگھریالی زلفوں کے پیچ و خم کو محض بال نہیں بلکہ دلوں کو قید کرنے والا ایک صیاد کا جال قرار دے رہا ہے۔ وہ اپنی ہی بے تاب 'نگاہِ شوق' کو خبردار کرتا ہے کہ ذرا سنبھل کر دیکھنا، کہیں ان زلفوں کے حلقوں میں الجھ کر ہمیشہ کے لیے اسیر نہ ہو جانا۔ یہ شعر محبت کے اس شیریں خطرے کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے جہاں حسن کی دلکشی انسان کو بڑی نزاکت سے اپنا قیدی بنا لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
