“Such glory did the mind attain through Love's revealing grace, that even Reason treads with care, watching every pace.”
عشق کی تجلی سے دماغ کی شان اس قدر بلند ہو گئی ہے کہ اب ہوش و عقل بھی اپنے قدم سنبھال کر رکھتے ہیں۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ عشق عقل و ہوش کو گنوا دیتا ہے، لیکن شاعر نے یہاں ایک نہایت دلکش اور برعکس بات کہی ہے۔ عشق کے جلوؤں نے عاشق کی فہم و فراست کو اس قدر بلندی اور وقار بخشا ہے کہ اب خود ہوش و حواس بھی اس کے روبرو باادب ہو کر سنبھل سنبھل کر قدم رکھتے ہیں۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ سچا عشق عقل کو برباد نہیں کرتا بلکہ شعور کو ایک باوقار کمال تک پہنچا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
