“Keep pleading the tangled lawsuits of this life; in the end, death will surely bring the verdict to light.”
تم زندگی کے الجھے ہوئے مقدمات لڑتے رہو، آخرکار موت ہی سارا نتیجہ نکال کر سامنے رکھ دے گی۔
شاعر نے زندگی کی بے شمار الجھنوں اور کشمکش کو ایک پیچیدہ عدالت اور مقدمے بازی سے تشبیہ دی ہے، جہاں انسان عمر بھر اپنی دلیلوں اور خواہشوں کو درست ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے۔ مگر شعر کی اصل خوبصورتی اس سچائی میں ہے کہ بالآخر موت ہی وہ حتمی منصف بن کر آئے گی جو سب الجھنوں کو سلجھا کر آخری فیصلہ سنا دے گی۔ یہ شعر دنیاوی جھمیلوں کی بے ثباتی کو نہایت پرسکون اور پراثر انداز میں بے نقاب کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
