“Kisses, embraces, and union with beauties make a splendid pursuit; rare is the elder who would ever dispute this view.”
حسینوں کو چومنا، گلے لگانا اور ان سے وصل کا لطف پانا ایک بہترین مشغلہ ہے، اور بہت کم بزرگ ہوں گے جو اس خیال کے خلاف ہوں۔
اس شعر میں شاعر نے بڑی شوخی اور ظرافت کے ساتھ عشق و محبت اور وصال کی لذتوں کو سراہا ہے۔ وہ شگفتہ انداز میں کہتے ہیں کہ محبوب کا قرب ایک ایسا دلکش مشغلہ ہے جس کی کشش اور سچائی سے بڑے بزرگ اور سنجیدہ لوگ بھی انکار نہیں کر پائیں گے۔ یہ شعر بظاہر پارسائی کا پردہ چاک کرتے ہوئے انسانی فطرت اور محبت کی ازلی طلب کو مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
