“Before the true reality of Being, what essence have 'this' and 'that'? All of these are merely puppets fashioned from your delusion and fancy.”
حقیقی وجود کے سچ کے سامنے اس اور اُس کی کیا حیثیت ہے؟ یہ سب تو محض آپ کے وہم اور خیال کے بنائے ہوئے پتلے ہیں۔
شاعر یہاں تصوف کے اس گہرے نکتے کو بڑے دل نشین انداز میں سمجھا رہے ہیں کہ کائنات کی مطلق حقیقت کے سامنے دنیاوی امتیازات کی کوئی وقعت نہیں۔ 'این و آں' یعنی اس ظاہری دنیا کے تمام روپ دراصل ہمارے اپنے ہی وہم و گمان کے تراشے ہوئے پتلے ہیں، جن کی اپنی کوئی پائیدار ہستی نہیں۔ جب انسان اس فریبِ نظر سے باہر نکلتا ہے تو اسے سمجھ آتا ہے کہ اس سارے تماشے کے پیچھے اصل حقیقت تو فقط ایک ہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
