“In this world, adornment is but a prelude to affliction's plight: they cast the candle in an elegant mould, only to set it alight.”
اس دنیا میں سجاوٹ اور خوبصورتی دراصل مصیبت کا پیش خیمہ ہے؛ لوگ شمع کو بھی پہلے سانچے میں ڈھال کر تیار کرتے ہیں اور پھر اسے جلا دیتے ہیں۔
شاعر نے اس شعر میں دنیا کا ایک بڑا گہرا اور تلخ فلسفہ سمجھایا ہے کہ سجاوٹ اور حسن دراصل آنے والی مصیبت کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ ذرا شمع کی مثال دیکھیے، اسے کس سلیقے سے سانچے میں ڈھال کر خوبصورت بنایا جاتا ہے، مگر اس ساری زیبائش کا انجام صرف جلنا اور پگھلنا ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی کمال اور نکھار اکثر اپنے ساتھ درد اور آزمائش کا سامان لے کر آتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
