غزل

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 7 shers· radif: हम पर भी

یہ غزل گزرے ہوئے شاندار دنوں، جوانی کے عروج اور محبوب کی عنایات کی ایک پردرد مگر دلکش یاد ہے۔ شاعر اس دور کو حسرت سے یاد کرتا ہے جب زمانہ اور محبوب دونوں اس پر مہربان تھے، لیکن اب وہ بہار رخصت ہو چکی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
बहुत रहा है कभी लुत्फ़-ए-यार हम पर भी गुज़र चुकी है ये फ़स्ल-ए-बहार हम पर भी
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی
ایک زمانہ تھا جب ہم پر بھی محبوب کا بے حد لطف و کرم رہا ہے؛ خوشیوں اور بہار کا یہ موسم ہماری زندگی پر بھی گزر چکا ہے۔
2
उरूस-ए-दहर को आया था प्यार हम पर भी ये बेसवा थी किसी शब निसार हम पर भी
عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی
اس دنیا کی دلہن کو کسی وقت ہم پر بھی پیار آیا تھا، اور یہ طوائف بھی کسی رات ہم پر نثار ہوئی تھی۔
3
बिठा चुका है ज़माना हमें भी मसनद पर हुआ किए हैं जवाहिर निसार हम पर भी
بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی
زمانہ ہمیں بھی کبھی عزت کی مسند پر بٹھا چکا ہے اور ماضی میں ہم پر بھی ہیرے جواہر نچھاور کیے گئے ہیں۔
4
अदू को भी जो बनाया है तुम ने महरम-ए-राज़ तो फ़ख़्र क्या जो हुआ ए'तिबार हम पर भी
عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی
جب آپ نے دشمن کو بھی اپنا رازدار بنا لیا ہے، تو پھر مجھ پر اعتبار کرنے میں میرے لیے فخر کی کیا بات رہ گئی۔
5
ख़ता किसी की हो लेकिन खुली जो उन की ज़बाँ तो हो ही जाते हैं दो एक वार हम पर भी
خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباں تو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی
قصور چاہے کسی کا بھی ہو، لیکن جب ان کی زبان کھلتی ہے تو ایک دو وار مجھ پر بھی ضرور ہو جاتے ہیں۔
6
हम ऐसे रिंद मगर ये ज़माना है वो ग़ज़ब कि डाल ही दिया दुनिया का बार हम पर भी
ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضب کہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی
ہم اس قدر بے پروا اور آزاد منش رند تھے، مگر اس ظالم زمانے نے بالآخر دنیا کے غموں اور ذمہ داریوں کا بوجھ ہم پر بھی ڈال ہی دیا۔
7
हमें भी आतिश-ए-उल्फ़त जला चुकी 'अकबर' हराम हो गई दोज़ख़ की नार हम पर भी
ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔ حرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی
اے اکبر، ہمیں بھی محبت کی آگ پہلے ہی جلا چکی ہے، اس لیے اب ہم پر جہنم کی آگ بھی حرام ہو گئی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی | Sukhan AI