“The fire of love has already consumed me, O Akbar; even the flames of Hell are now forbidden to me.”
اے اکبر، ہمیں بھی محبت کی آگ پہلے ہی جلا چکی ہے، اس لیے اب ہم پر جہنم کی آگ بھی حرام ہو گئی ہے۔
اکبر الہ آبادی اس شعر میں محبت کی تپش کو دوزخ کی آگ پر فوقیت دیتے ہوئے ایک کمال کا عاشقانہ مضمون باندھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عشق کی آگ میں جل کر وہ اس حد تک فنا ہو چکے ہیں کہ اب جہنم کی آگ بھی ان پر بےاثر اور حرام ہو چکی ہے۔ یہ عاشق کی وہ بےنیازی اور وارفتگی ہے جہاں دنیاوی و اخروی تمام خوف مٹ جاتے ہیں اور صرف محبت کا سوز باقی رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
